کراچی میں جیڈا (GIEDA)، چابہار فری زون اور گوادر چیمبر آف کامرس کے درمیان اہم مشاورتی نشست
گبد ٹریڈ پروجیکٹ، بارڈر مارکیٹس اور پاک ایران اقتصادی روابط پر تفصیلی تبادلہ خیال
کراچی میں گوادر انڈسٹریل اسٹیٹس ڈیولپمنٹ اتھارٹی (GIEDA)، چابہار فری زون آرگنائزیشن ایران اور گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان ایک اہم اور مثبت مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاک ایران سرحدی تجارت، بارڈر مارکیٹس، صنعتی تعاون اور علاقائی اقتصادی روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں جیڈا کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب سید اعجاز حیدر شاہ، ڈائریکٹر جیڈا جناب وقاص احمد لاسی، جبکہ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے جناب شمس الحق کلمتی شریک ہوئے۔
ایرانی وفد کی قیادت چابہار فری زون آرگنائزیشن کے چیئرمین آف دی بورڈ و منیجنگ ڈائریکٹر جناب محمد سعید اربابی نے کی۔ وفد میں ڈپٹی برائے اکنامک کوآرڈینیشن و ریجنل ڈویلپمنٹ جناب مجیب حسنی، مشیر جناب میثم کیخا آریا، جناب محمد شریفی پیرجل، رمیدان زون کے ڈائریکٹر جناب شکری بلوچ، ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز و انٹرنیشنل افیئرز جناب یوسف باور، لاجسٹکس، شپنگ اور سرمایہ کاری کے شعبوں سے وابستہ دیگر اعلیٰ حکام اور سرمایہ کار بھی شامل تھے۔
اجلاس کے دوران منیجنگ ڈائریکٹر جیڈا سید اعجاز حیدر شاہ اور ڈائریکٹر جیڈا وقاص احمد لاسی کی جانب سے گبد ٹریڈ پروجیکٹ (GPT) کے حوالے سے ایرانی وفد کو تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔ اس پریزنٹیشن میں گبد کے ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل مجوزہ منصوبے، اس کی ماسٹر پلاننگ، بارڈر مارکیٹ سرگرمیوں، تجارتی راہداریوں، لاجسٹکس روابط اور مستقبل کے اقتصادی امکانات پر جامع بریفنگ دی گئی۔
جیڈا حکام نے واضح کیا کہ گبد ٹریڈ پروجیکٹ کی جغرافیائی اہمیت اس منصوبے کی بنیاد ہے، کیونکہ اس کی موجودہ لوکیشن براہِ راست ایرانی سرحد، چابہار فری زون اور رمدان زون کے بالمقابل واقع ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بارڈر ٹریڈ اور صنعتی تعاون کیلئے نہایت موزوں مقام تصور کیا جاتا ہے۔
ایرانی وفد نے جیڈا کی جانب سے پیش کردہ ماسٹر پلان اور بارڈر مارکیٹ وژن پر اطمینان اور دلچسپی کا اظہار کیا، جبکہ بعد ازاں چابہار فری اکنامک زون کی جانب سے بھی اپنے اکنامک زون، تجارتی سہولیات اور ماسٹر پلاننگ سے متعلق تفصیلی معلومات پاکستانی وفد کے ساتھ شیئر کی گئیں۔
اجلاس میں دونوں جانب سے اس امر پر مکمل اتفاق رائے پایا گیا کہ گبد اور چابہار سے منسلک منصوبوں کی موجودہ لوکیشن ہی ان کی اصل معاشی، تجارتی اور اسٹریٹیجک اہمیت ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مستقبل میں ان منصوبوں یا بارڈر مارکیٹ سے متعلق اراضی کو کسی دوسری جگہ منتقل کیا گیا تو اس سے بارڈر مارکیٹ کے بنیادی مقاصد متاثر ہوں گے اور دونوں ممالک کو متوقع تجارتی و اقتصادی فوائد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک کے نمائندوں نے پاک ایران اقتصادی تعاون، بارڈر مارکیٹس، صنعتی روابط اور علاقائی تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دینے کیلئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس موقع پر ایرانی وفد کی جانب سے پاکستانی وفد کو آئندہ دنوں میں چابہار کے دورے کی باضابطہ دعوت بھی دی گئی، جہاں پاک ایران تجارت، بارڈر مارکیٹس اور دوطرفہ اقتصادی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفصیلی مذاکرات کیے جائیں گے۔ دونوں جانب سے اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مستقبل قریب میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر اور عملی شکل دینے کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے جائیں گے۔









